بنگلورو، 20؍جنوری (ایس او نیوز) کرناٹک میں ایک طرف کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے لیکن شرح اموات میں غیرمعمولی کمی اور صحت یابی کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ بسواراج بومئی نے اشارہ دیا ہے کہ ریاست میں نافذ کووڈ ضابطے میں فوری نرمی لائی جاسکتی ہے -
چہارشنبہ کے روز اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمعہ کے روز انہوں نے ماہرین کی ایک میٹنگ طلب کی ہے جس میں نائٹ کرفیو اورویک اینڈ کرفیوختم کرنے کے متعلق فیصلہ لیا جاسکتا ہے - انہوں نے کہا کووڈ کے کیسوں میں اضافہ ضرور ہورہا ہے لیکن اسپتالوں میں لوگوں کے داخلے کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے - نوے فیصد سے زائد متاثرین ہوم آئیسولیشن میں ہی صحت یاب ہورہے ہیں -اسی لئے حکومت آنے والے دنوں میں اسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ شعبوں میں کو مستعد کرنا چاہتی ہے تاکہ کووڈ متاثرین کا ان شعبوں میں علاج کیا جاسکے-
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماہرین کی کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ نائٹ کرفیو اورویک اینڈ کرفیو ہٹانے کیلئے عوامی حلقوں سے ہونے والے مطالبات پر غورکیا جائے- وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمعہ کے اجلاس میں اس پر واضح منظر نامہ سامنے آنے کی قوی توقع ہے -جہاں عوام کی جان کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، وہیں کسی طرح کی پابندی سے عوام کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو یہ بھی حکومت کے ذمے ہے -ایسے مرحلے میں جب کہ کورونا کے کیس کافی تیزی سے بڑھ رہے ہیں،پابندیوں میں نرمی لانے حکومت کی تیاری کے جواز کو لے کر کئے گئے ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ شرح اموات میں غیرمعمولی کمی اور لوگوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح کو دیکھ کر یہ فیصلہ لیا جارہا ہے - کیسوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے گزشتہ ہفتے یہ طے کیا تھا کہ نائٹ کرفیو اور ویک اینڈکرفیو کو 31 جنوری تک بڑھایا جائے گا لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کے متعدد اراکین اسمبلی بشمول وزراء کووڈ پابندیوں کی وجہ سے عوام کو ہونے والی پریشانیوں کی دہائی دے کر وزیراعلیٰ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ فوری طورپر نائٹ کرفیو اور ویک اینڈ کرفیو کو ختم کیا جائے۔